 |
میں قسم کھاتا ہوں روزِ قیامت کی،
|
 |
اور میں قسم کھاتا ہوں (برائیوں پر) ملامت کرنے والے نفس کی،
|
 |
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اُس کی ہڈیوں کو (جو مرنے کے بعد ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں گی) ہرگز اِکٹھا نہ کریں گے،
|
 |
کیوں نہیں! ہم تو اس بات پر بھی قادر ہیں کہ اُس کی اُنگلیوں کے ایک ایک جوڑ اور پوروں تک کو درست کر دیں،
|
 |
بلکہ انسان یہ چاہتا ہے کہ اپنے آگے (کی زندگی میں) بھی گناہ کرتا رہے،
|